بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نانی نے اپنی نواسی کے منہ میں پستان دے دیا تو رضاعت کا کیا حکم ہوگا؟

سوال

میری عمر چالیس سال ہے۔ میری چھوٹی بیٹی کی عمر 12 سال ہے، میری بڑی بیٹی کی بیٹی ہوئی ہے، دو مہینے کی، وہ رو رہی تھی، میں نے خالی پستان اس کے منہ میں دیا، جس میں دودھ نہیں آتا گاڑھا پانی آتا ہے، اگر چھاتی میں دودھ نا ہو تب بھی رضاعت کا مسئلہ بنتا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  حرمتِ رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

الْمَرْأَةُ إذَا جَعَلَتْ ثَدْيَهَا فِي فَمِ الصَّبِيِّ وَلَا تَعْرِفُ أَمَصَّ اللَّبَنَ أَمْ لَا فَفِي الْقَضَاءِ لَا تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ بِالشَّكِّ، وَفِي الِاحْتِيَاطِ تَثْبُتُ دَخَلَ فِي فَمِ الصَّبِيِّ مِنْ الثَّدْيِ مَائِعٌ لَوْنُهُ أَصْفَرُ تَثْبُتُ حُرْمَةُ الرَّضَاعِ لِأَنَّهُ لَبَنٌ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ.

(كِتَابُ الرَّضَاعِ، ١ / ٣٤٤، ط: دار الفكر)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201030
تاریخ06-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں