بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کے دنوں میں قرآنی آیات پر مشتمل دعاؤں کا پڑھنا

سوال

حیض کے دنوں میں قرآنی آیات جو دعا کی نیت سے پڑھنا جائز ہیں، کیا انہیں پڑھنے کے لیے  بھی سانس توڑ کر پڑھنا ہو گا؟

جواب

عورت کے لیے حیض کے ایام میں اُن قرآنی آیات کو (ہاتھ لگائے بغیر)  بطورِ دعا یا بطور وظیفہ پڑھنا جائز  ہے جن میں دعا کا معنیٰ ہو، مثلاً آیتِ کریمہ، سورہ فاتحہ وغیرہ اور ان کے پڑھنے کے دوران سانس توڑنا بھی ضروری نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 293):

"فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لايؤثر فيه قصد غير القرآنية."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201023
تاریخ06-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں