بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چرس کے کاروبار کا حکم

سوال

چرس کا کاروبار کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟

جواب

چرس ایک نشہ آور  مادہ ہے ، اور نشہ کرنا  اسلام میں حرام ہے تو چرس  پینا بھی حرام ہے۔

"عن أبي حازم عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلمكل مسكر حرام وما أسكر كثيره فقليله حرام". (السنن الکبری)

البتہ ادویہ میں اس کا استعمال ہونے کی وجہ سے کاشت جائز ہے۔ اور کسی دوائی بنانے والے کو  یہ بیچنا جائز ہے، لیکن ایسا شخص جس کے بارے  میں یقین ہو کہ یہ اس کو غلط مقصد میں استعمال کرے گا، اسے  یہ فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’افیون، چرس، بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کادوا میں خارجی استعمال جائزہے، نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائزہے۔ مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے، تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کااستعمال خارجی بھی ناجائزہے۔‘‘

(کفایت المفتی 9/129،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200996
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں