بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حب علی نہیں بلکہ بغض معاویہ کہنے کا حکم

سوال

مفتیانِ  کرام درپیش مسئلہ یہ ہے کہ ایک محاورہ یا مقولہ ہے اس کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟  (یہ حب علی نہیں بغض معاویہ ہے) علماءِ کرام یا عوام ہوں عام معاملات میں جب کبھی کوئی کسی کی طرف داری کرتاہے تو یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے ؟

جواب

یہ جملہ عام طور پر تب بولا جاتا ہے جب ایک فریق حق کے  بجائے صرف  دوسرے کی مخالفت میں کوئی بات کہے تو  اس کو  کہا جاتا ہے کہ یہ حب علی نہیں، بلکہ بغض معاویہ  ہے۔ چوں کہ عام رواج  میں اس جملے میں کسی صحابی کی توہین وتنقیص مقصود نہیں ہوتی،  بلکہ مخاطب کو بات کہنی مقصود ہوتی ہے؛ اس لیے  اس  جملے  کے  استعمال میں گناہ تو نہیں ہے،البتہ عام گفتگو  میں صحابہ  کرام کے نام کو  کسی پر تنقید کرنے کے دوران استعمال کرنا پسندیدہ نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200972
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں