بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زنا کرنے کی بنا پر مالی جرمانہ لینا

سوال

کسی لڑکے  نے شادی شدہ لڑکی کے ساتھ زنا کیا، اب لڑکی کے شوہر کو معلوم ہوا تو اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں، گاؤں کے لوگوں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ جس لڑکے نے زنا کیا ہے اس سے مزنیہ لڑکی کو  پانچ  لاکھ دینا ہوگا ۔  اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زنا  کے بدلے پانچ لاکھ لینا درست ہے ؟ اور یہ معاملہ غیر اسلامی حکومت میں ہو ا ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکے اور لڑکی کا فعل بہت ہی بڑا گناہ تھا، جس پر دونوں کو سچی توبہ کرنا اور آئندہ اپنے اَحوال کی اِصلاح  کرنا واجب ہے، تاہم اس گناہ کے بدلے  میں  کسی بھی قسم کا مالی جرمانہ لینا  جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و في شرح الآثار : التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال." (4/61)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200971
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں