بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ ترتیب کے لیے وتر کی نماز قضا کرنے کا طریقہ

سوال

وتر کی قضا کا حُکم صاحبِ ترتیب کے لیے کیا ہے؟

جواب

جو شخص صاحبِ ترتیب ہو، اس پر اپنی ترتیب برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے کہ  اگر اس سے وتر کی نماز قضا ہوگئی تو فجر کی نماز ادا کرنے سے پہلے وتر کی نماز قضا کرے پھر فجر پڑھے۔ وتر کی نماز  پڑھے بغیر چھ  سے کم نمازیں ادا کرنے کی صورت  میں اس کی وہ تمام نمازیں فاسد ہوں گی اور وتر ادا کرنے کے بعد  ان کا دہرانا واجب ہوگا اور اس صورت میں اس کی ترتیب باقی رہے گی، اگر وتر پڑھے بغیر اس نے اگلے چھ وقتوں کی نمازیں (یعنی فوت شدہ وتر کے بعد کی فجر سے اگلے دن کی فجر کی نماز تک) ادا کرلیں تو اب اس کی ترتیب ساقط ہو جائے گی، البتہ یہ چھ نمازیں اس صورت میں درست ہو جائیں گی اور ان کا دہرانا واجب نہیں ہوگا۔ 

في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 65):

"(الترتيب بين الفروض الخمسة والوتر أداء وقضاء لازم).....(فلم يجز) .. (فجر من تذكر أنه لم يوتر) لوجوبه عنده (إلا) .. (إذا ضاق الوقت المستحب)".

وفيه أيضًا (2 / 68):

"لايلزم الترتيب بين الفائتة والوقتية ولا بين الفوائت إذا كانت الفوائت ستًّا، كذا في النهر. أما بين الوقتيتين كالوتر والعشاء فلايسقط الترتيب بهذا المسقط كما لايخفى."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200963
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں