بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مکہ مکرمہ میں قربانی کا ثواب زیادہ ہے؟

سوال

مکہ  مکرمہ  میں قربانی کرنے کا ثواب زیادہ ہے یا نہیں؟ 

جواب

مکہ مکرمہ میں کسی بھی نیک عمل کا ثواب مکہ کے علاوہ دیگر مقامات کے عمل سے افضل ہے، لہذا مکہ میں قربانی کا ثواب  بھی دیگر جگہوں پر قربانی سے زیادہ ہوگا۔ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھاہے کہ حدیثِ صحیح یا حسن کے مطابق حدودِ حرم کی ہر نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔

قال ابن حجر الهيتمي الشافعي:

"بَلْ سَائِرِ الْعِبَادَاتِ، فَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ، أَوْ الْحَسَنِ أَنَّ «حَسَنَةَ الْحَرَمِ بِمِائَةِ أَلْفِ حَسَنَةٍ» أَيْ غَيْرِ الصَّلَاةِ لِمَا مَرَّ فِيهَا."

(الفتاوى الفقهية الكبرى: ٢ / ٩١، دار الكتب العلمية، بيروت) 

"قال الحسن البصري : أن من صام في الحرم كتب له صوم مئة ألف يوم ومن تصدق فيها بدرهم كتب له مئة ألف درهم صدقة."

(أخبار مكة للفاكهي : ٢/ ٢٩٢)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200952
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں