بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کو صدقہ دینا

سوال

کسی غیر مسلم کو صدقہ دینا جائز ہے؟

جواب

 غیر مسلم اگر ضرورت مند ہو تو اس کو زکاة یا صدقاتِ واجبہ دینا تو جائز نہیں ہے، اس لیے کہ زکاة کی ادائیگی کے لیے مسلمان مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے،   البتہ  نفلی صدقات وغیرہ سے غیر مسلم کی مدد کی جاسکتی ہے۔

البتہ  فرقہ قادیانیت سے وابستہ افراد یا کسی بھی مرتد یا زندیق کی مالی امداد کسی بھی مد سے کرنے کی شرعاً و اخلاقاً  اجازت نہیں۔ اہلِ کتاب و دیگر مذاہب کے افراد کی نفلی صدقات سے مدد کرنے کی اجازت ہے۔ 

"عن إبراهیم بن مهاجر قال: سألت إبراهیم عن الصدقة على غیر أهل الإسلام، فقال: أما الزكاة فلا، وأما إن شاء رجل أن یتصدق فلا بأس".

(المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الصدقة یعطي منها أهل الذمة۶؍۵۱۳ رقم:۱۰۴۱۰)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200936
تاریخ05-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں