بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردوں کی موجودگی میں عورت کا جانور کو ذبح کرنے کا حکم

سوال

کیا مردوں کی موجودگی میں عورت جانور پر تکبیر پڑھ کر چھری پھیر سکتی ہے؟

جواب

جانور کے حلال ہونے کے لیے ذابح (ذبح کرنے والے) کا مسلمان یا اہلِ کتاب ہونا اور اللہ کا نام لینا شرط ہے، لہٰذا مردوں کی موجودگی کے باوجود اگر کوئی مسلمان یا اہلِ کتاب عورت جانور  کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے (چھری پھیرے) تو اس میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر مذبح (جائے ذبح) میں غیر محرم مرد بھی ہو تو عورت کو یہ اجازت پردہ کا مکمل اہتمام کرنے کی شرط کے ساتھ ہی دی جاسکتی ہے۔ اگر کسی جگہ عورت کی بے پردگی کا احتمال ہو تو عورت کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 296):

(وشرط كون الذابح مسلمًا حلالًا خارج الحرم إن كان صيدًا)  فصيد الحرم لا تحله الذكاة في الحرم مطلقًا (أو كتابيًّا ذميًّا أو حربيًّا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما، ولو) الذابح (مجنونًا أو امرأةً أو صبيًّا يعقل التسمية والذبح) .

فقط والله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

عورت کا قربانی، عقیقہ یا صدقہ کا جانور ذبح کرنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200856
تاریخ03-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں