کسی شخص کے عقائد شرک کی حد تک نہ پہنچے ہوں تو قربانی میں اسے شریک کیا جاسکتا ہے؟
سوال
میں نے سنا تھا کہ عام بریلوی آدمی کو مشرک نہ کہو؛ کیوں کہ ان کو عقیدے کا پتا نہیں ، اگرعام آدمی بریلوی آدمی قربانی میں شریک ہوجائے بڑے جانور میں تو باقی صحیح العقیدہ لوگوں کی قربانی درست ہے یانہیں؟
جواب
اگر کسی شخص کے عقائد شرک کی حد تک نہ پہنچے ہوں تو ایسے شخص کی شرکت سے بقیہ صحیح العقیدہ شرکاء کی قربانی فاسد نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144112200845
تاریخ03-08-2020

