بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی شخص کے عقائد شرک کی حد تک نہ پہنچے ہوں تو قربانی میں اسے شریک کیا جاسکتا ہے؟

سوال

 میں نے سنا تھا کہ عام بریلوی آدمی کو مشرک نہ کہو؛ کیوں کہ ان کو عقیدے کا پتا نہیں ، اگرعام آدمی بریلوی آدمی قربانی میں شریک ہوجائے بڑے جانور میں تو  باقی صحیح العقیدہ لوگوں کی قربانی درست  ہے یانہیں؟

جواب

اگر  کسی شخص کے عقائد شرک کی حد تک نہ پہنچے ہوں تو ایسے شخص کی شرکت سے بقیہ صحیح العقیدہ شرکاء کی قربانی  فاسد  نہ  ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

بریلویوں کے ساتھ قربانی کے جانور میں شریک ہونا

بریلوی کا ذبیحہ

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200845
تاریخ03-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں