بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام مغز کھانے کا حکم

سوال

جانور کی ریڑھ کی ہڈی میں جو حرام مغز ہوتا ہے اس کے کھانے کے بارے میں لوگ مختلف آراء رکھتے ہیں، شرعی اعتبار سے اس کے بارےمیں کیا حکم ہے؟ اس کا کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب

حرام مغز  کا کھانا حرام نہیں ہے۔

"کره تحریماً، و قیل: تنزیهاً والأول أو جه، من الشاة سبع: الحیاء والخصیة والغدة و المثانة والمرارة"... الخ

( الدرالمختار مع الرد ۶/۷۴۹)

"والنخاع: عرق أبيض في عظم الرقبة".

(المبسوط للسرخسي (11/ 226)

"و زِيْدَ نخاعُ الصلب".

(طحطاوی علی الدر( 4/360) 

کفایت المفتی میں ہے:

’’کپورے کھانا مکروہ ہے، گردے جائز ہیں، حرام مغز نہ حرام ہے نہ مکروہ، یوں ہی بے چارہ بدنام ہوگیا‘‘۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200841
تاریخ03-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں