بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کےجانورمیں شریک کا قربانی کےجانورکوذبح کرنےپراجرت لینےکا حکم

سوال

قربانی کے ایک جانور کے سات شریکوں میں سے ایک شریک قصائی کا کام جانتا ہے، وہ باقی شرکاء سے کہتا ہے کہ قصائی کا کام میں کرتا ہوں اور جو اجرت قصائی کو دینی ہے وہ مجھے دےدیں۔ کیا اس کو یہ کام دیا جاسکتا ہے؟ کیا اس سے شریک قصائی یا دیگر شرکاء کی قربانی پر فرق تو نہیں پڑے گا؟

جواب

بصورت مسئولہ قربانی کے جانور میں شریک آدمی کے لیے اسی جانور کو ذبح کر کے بنانے کی اجرت لینا جائز نہیں ہے۔البتہ قربانی کرنا درست ہوجائےگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لايعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلايستحق الأجر، ( كراهن استأجر الرهن من المرتهن)؛ فإنه لا أجر له لنفعه بملكه."

(کتاب الإجارة، مطلب فی الاستیجار علی المعاصی،ج:6،ص:60،ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200826
تاریخ02-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں