بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھینس کی قربانی کا حکم

سوال

بھینس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

بھینس گائے کی ہی ایک قسم ہے؛ اس لیے اس کی قربانی جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(و) صح (الثني) فصاعدًا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) والمعز والمتولد بين الأهلي، والوحشي يتبع الأم قاله المصنف.

(قوله والجاموس) نوع من البقر، وكذا المعز نوع من الغنم بدليل ضمّها في الزكاة، بدائع.

(کتاب الاضحیۃ ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۲۲،ایچ ایم سعید)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200807
تاریخ02-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں