بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوت شدہ شخص کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم

سوال

کسی فوت شدہ بندے کی طرف سے کی گئی قربانی کا گوشت خود کھا سکتے ہیں اور عزیز واقارب میں بانٹ سکتے ہیں یا سارا ہی غرباء میں تقسیم کرنا چاہیے؟

جواب

میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے  اور  اس قربانی کا گوشت کھانا سب کے لیے جائز ہوگا۔ سارا غرباء میں تقسیم کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر میت نے اپنی طرف سے قربانی کی وصیت کی ہو اور میت کے مال سے ہی قربانی کی جائے تو اس کا گوشت صدقہ کرنا ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح.  قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لايأكل منها وإلا يأكل، بزازية، وسيذكره في النظم."

(کتاب الأضحیة ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۲۶،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200786
تاریخ01-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں