بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں طلبہ کو کھانا کھلانے اور سلانے کا حکم

سوال

کیا مدرسہ کے ہوتے ہوئے طلبہ کے لیے مسجد میں کھانا پینا سونا جائز ہے جب کہ اس سے نمازیوں کو تکلیف ہے اکثرنابالغ بچے ہیں؟

جواب

معتکف کے علاوہ دیگر افراد کے لیے مسجد میں کھانا، پینا یا سونا مکروہ ہے، لہذا مدرسہ میں جگہ موجود ہونے کی صورت میں بلا ضرورت مسجد میں طلبہ کو کھلانے، پلانے اور سلانے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر مجبوری ہو تو  کھلانے، پلانے، یا سلانے سے پہلے اعتکاف کی نیت کرواکر کچھ وقت عبادت میں مصروف رکھنا چاہیے، نیز نمازوں کے اوقات کے علاوہ ترتیب بنائی جائے؛ تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وَيُكْرَهُ النَّوْمُ وَالْأَكْلُ فِيهِ لِغَيْرِ الْمُعْتَكِفِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْوِيَ الِاعْتِكَافَ فَيَدْخُلَ فِيهِ وَيَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى بِقَدْرِ مَا نَوَى أَوْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَفْعَلَ مَا شَاءَ، كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ. ( كِتَابُ الْكَرَاهِيَةِ، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي آدَابِ الْمَسْجِدِ وَالْقِبْلَةِ وَالْمُصْحَفِ وَمَا كُتِبَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ ، ٥ / ٣٢١، ط: دار الفكر)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200783
تاریخ01-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں