بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رات کو قربانی کرنا جائز ہے؟

سوال

رات کو قربانی کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رات کے وقت قربانی کرنا جائز ہے، البتہ اندھیرے میں قربانی کرنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ اندھیرے کی وجہ سے ذبح میں جن رگوں کو کاٹنا ضروری ہے، اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔ تاہم آج کل تقریباً ہر جگہ بجلی کا انتظام ہے؛ لہذا رات میں اگر روشنی کا بہتر انتظام ہو اور جانور کی رگیں کٹنے میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہ ہو تو پھر رات میں قربانی کرنا مکروہ نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكره) تنزيهًا  (الذبح ليلًا) لاحتمال الغلط(۶ / ۳۲۰، سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200774
تاریخ01-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں