بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی دکان سنبھالنے کے بعد اس کی ملکیت کا دعوی کرنا

سوال

میری راولپنڈی میں  ذاتی دوکان ہے، سپئیر پارٹس کی جس کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہے،  آج سے دس سال پہلے میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو دوکان کا کام سکھا کر اپنی راولپنڈی والی دوکان میں کام کے لیے  بٹھایا اور خود آزاد کشمیر آبائی گاؤں میں آ کر مزدوری شروع کر دی، چھوٹے بھائی نے دوکان اچھے طریقہ سے چلائی اور دوکان سے پیسے کما کر گھر پر بھی خرچہ دیتا رہا اور دوکان میں بھی پیسے لگاتا رہا، اب دس سال بعد جب اس کی شادی ہوئی تو جھگڑا یہ بن گیا کہ یہ دوکان کس کی ہے؟ براے مہر بانی دوکان کی ملکیت کے بارے شرعی حکم واضح فرما دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے کہ آپ نے اپنی ذاتی دکان میں اپنا سرمایہ لگاکر کاروبار شروع کیا اور پھر بعد میں اس کاروبار کو چلانے کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کو اس دکان پر بٹھایا اور قانونی و شرعی طور پر ہبہ کرکے دکان اس کی ملکیت و قبضے میں نہیں دی تو اس صورت میں چھوٹے بھائی کی حیثیت معاون ومدگار  کی ہے، اور  دکان اور سرمایہ سب آپ ہی کی ملکیت ہے، چھوٹے بھائی کا اس پر ملکیت کا دعوی کرنا درست نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي، كذا في البحر الرائق."

(2/167، باب التعزیر،ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے :

"لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينًا له."

(4/325، کتاب الشرکة، فصل في الشرکة الفاسدۃ، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200754
تاریخ01-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں