بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ کا پچیس فیصد صدقہ کرنے کی نذر ماننا

سوال

 اگر کسی نے نذر مانی کہ میں تنخواہ کا %25 اللہ کی راہ میں دوں گا،  لیکن وہ اتنا نہیں دے  رہا  یا اتنا نہیں دے سکتا تو اب وہ کیا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر نذر مانتے وقت زبان سے الفاظ ادا  کیے تھے تو شرعًا یہ نذر منعقد ہوگئی اور  تنخواہ کا 25٪ حصہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا ضروری ہے،اگر کسی  مہینے  نہ  کرسکا تو وہ اس کے ذمے  واجب  رہے گا اور  زندگی  میں کسی بھی  وقت  ادا کر سکتا ہے۔ لہٰذا ہر تنخواہ پر پچیس فیصد رقم نکالنے کا اہتمام کرے، اگر کسی مہینے میں گنجائش نہ ہو تو اس کا حساب رکھے اور جیسے ہی گنجائش ہو، جلد ادا کرنے کی سعی کرے۔

اور  اگر  نذر مانتے وقت زبان سے الفاظ ادا  نہیں  کیے تھے،  صرف  دل  میں نیت کی تھی تو  یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، اگر تنخواہ  کا کچھ حصہ  اللہ  کی راہ میں خرچ کردے گا تو  ثواب ملے گا اور نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200722
تاریخ31-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں