بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں غیر مسلم کا کام کرنا

سوال

جو لوگ فیکٹریوں میں اجتماعی قربانی کرتے ہیں، وہاں غیر مسلم بھی کام کرتے ہیں تو کیا غیر مسلم کا قربانی کے کام میں کام کرنا جائز ہے؟

جواب

اگر غیر مسلم قربانی میں ذبح کے علاوہ دیگر کاموں میں معاونت کرتا ہے تو اس کی گنجائش ہے، قربانی ہوجائے گی اور گوشت کھانا حلال ہوگا، لیکن اگر غیر مسلم جانور کی گردن پر چھری پھیر رہا ہو تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ اہلِ کتاب (یہودی یا نصرانی)  ہو، اپنے مذہب کے اصول پر کار بند ہو، پیغمبر اور آسمانی کتاب کا ماننے والا ہو اور جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرتا ہو، ذبح کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام نہ لیتا ہو تو قربانی ہوجائے گی اور گوشت حلال ہوگا، لیکن اگر چھری پھیرنے والا اہلِ کتاب کے علاوہ غیر مسلم ہو تو  قربانی ادا نہیں ہوگی اورگوشت حلال نہیں ہوگا۔

"(وشرط كون الذابح مسلمًا حلالًا خارج الحرم إن كان صيدًا) فصيد الحرم لاتحله الذكاة في الحرم مطلقًا (أو كتابيًّا ذميًّا أو حربيًّا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 296)

فقط و اللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200712
تاریخ31-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں