بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال جانور کے حرام اجزاء کا بیرونی استعمال

سوال

جانور کے کپورے ان سات اعضاء میں سے ہیں کہ جن کا کھانا حرام ہے،  اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کو کھانے کے علاوہ بطور دوا بیرونی استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلا طلاء کے طور پر؟

جواب

واضح رہے کہ جانور کے وہ اجزاء جن کا داخلی استعمال یعنی ان کا کھانا پینا حرام ہو، وہ ذبحِ شرعی کے بعد پاک ہو جاتے  ہیں، ان کا کھانا پینا حلال نہیں ہوتا،  لیکن پاک ہو جانے کی وجہ سے اس کا خارجی اور بیرونی استعمال جائز ہوتا ہے، لہذا جانور کے کپوروں کو کھانے پینے کے علاوہ  بطورِ دوا بیرونی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200702
تاریخ31-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں