بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد رقم تجارت میں لگانے پر زکوۃ کا حکم

سوال

میرے پاس نصابِ زکوٰۃ کے برابر پیسہ تھا اور میں نے اس پیسہ کو تجارت میں لگا دیا کیا اس پیسہ کی زکوٰۃ دینا لازم ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ  زکاۃ مالِ تجارت پر بھی لازم ہوتی ہے، مالِ تجارت سے مراد وہ اثاثہ جو فروخت کے لیے رکھا ہو اور اس کو فروخت کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو؛ لہذا آپ کے پاس جو رقم نقد موجود تھی اس رقم کو تجارت میں لگانے کی وجہ سے زکاۃ کا حکم ساقط نہیں ہو گا، بلکہ اس پر بھی زکاۃ لازم ہو گی۔

ہاں! اگر اس رقم سے کچھ ایسی اشیاء بھی خریدی گئی ہوں جو کاروبار میں استعمال ہوتی ہوں، لیکن ا ن کو فروخت نہ کیا جاتا ہو، مثلاً دفتر کے لیے ٹیبل کرسی، پنکھے، کمپیوٹر وغیرہ تو ان اشیاء کی مالیت پر زکاۃ لازم نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200701
تاریخ31-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں