بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی میں ڈیڑھ حصہ لینے کا حکم

سوال

کیا قربانی میں ڈیڑھ  حصہ لیا جاسکتا ہے؟

 

جواب

قربانی کے بڑے جانور (مثلاً گائے، بھینس،  اونٹ وغیرہ) میں کسی بھی شریک کے لیے ایک حصہ سے کم (یعنی آدھا یا پونا) حصہ لینا درست نہیں ہے، البتہ ایک سے زیادہ حصہ (یعنی ڈیڑھ یا پونے دو حصے) لیے جاسکتے ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 315):

"(أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، وتجزي عما دون سبعة بالأولى".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200674
تاریخ30-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں