بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو سالوں کی ایک ساتھ زکاۃ ادا کرنا

سوال

اگر کسی شخص نے دو سال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو کیا دو سال بعد دونوں سال کی ایک ساتھ زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے؟

جواب

مذکورہ شخص کے ذمہ دونوں سالوں کی زکاۃ  ادا کرنا لازم ہے، ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ گزشتہ سال زکاۃ کا سال پورے ہونے پر جتنی مقدار زکاۃ واجب تھی، پہلے اسے موجودہ قابلِ زکاۃ اموال (یعنی قرض منہا کرنے کے بعد جو نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت موجود ہو، اس) میں سے نکالے، یہ گزشتہ سال کی زکاۃ ہوئی، پھر بقیہ مال سے ڈھائی فیصد منہا کرکے اس سال کی زکاۃ بھی ادا کردے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 7):

"إذَا كَانَ لِرَجُلٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ أَوْ عِشْرِينَ مِثْقَالٍ ذَهَبٍ فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ سَنَتَيْنِ يُزَكِّي السَّنَةَ الْأُولَى، وَلَيْسَ عَلَيْهِ لِلسَّنَةِ الثَّانِيَةِ شَيْءٌ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ. وَعِنْدَ زُفَرَ يُؤَدِّي زَكَاةَ سَنَتَيْنِ، وَكَذَا هَذَا فِي مَالِ التِّجَارَةِ".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200659
تاریخ30-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں