بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپریشن کے ذریعے ولادت کی صورت میں نفاس کی مدت

سوال

آپریشن سے ولادت ہوئی تو نفاس کی مدت کیا ہوگی؟

جواب

ولادت چاہے فطری ( نارمل) طریقے سے ہو یا آپریشن کے ذریعے ہو دونوں صورتوں میں نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی تحدید نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 299):
"(والنفاس) لغةً: ولادة المرأة. وشرعًا (دم)، فلو لم تره هل تكون نفساء؟ المعتمد نعم! (ويخرج) من رحمها فلو ولدته من سرتها إن سال الدم من الرحم فنفساء وإلا فذات جرح وإن ثبت له أحكام الولد (عقب ولد) أو أكثره ولو متقطعًا عضوًا عضوًا لا أقله، فتتوضأ إن قدرت أو تتيمم وتومئ بصلاة ولاتؤخر، فما عذر الصحيح القادر؟ وحكمه كالحيض في كل شيء إلا في سبعة ذكرتها في الخزائن وشرحي للملتقى: منها أنه (لا حد لأقله) ... (وأكثره أربعون يومًا) كذا رواه الترمذي وغيره ولأن أكثره أربعة أمثال أكثر الحيض". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200604
تاریخ29-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں