بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کے ہاتھ پاؤں نہ ہوں اس کے لیے وضو کاحکم

سوال

اگر کسی شخص کے ہاتھ کہنیوں سمیت نہیں ہیں، اور منہ پر دانے ہیں، اور پاؤں بھی نہیں ہیں تو نماز پڑھنے کے لیے اس کو سر کا مسح کرایا جائے گا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جس شخص کے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں، مثلًا: کٹے ہوئے ہوں  اور چہرے پر دانے اور زخم ہوں، اس کے  لیے شرعاً اجازت ہے کہ وہ بغیر وضو  اور تیمم کے نماز پڑھ لے، اس پر طہارت کا حصول لازم نہیں رہتا، اس لیے سر پر مسح کرنا بھی لازم نہیں ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(مقطوع اليدين والرجلين إذا كان بوجهه جراحة يصلي بغير طهارة) ولايتيمم.

(قوله: مقطوع اليدين) أي من فوق المرفقين والكعبين وإلا مسح محل القطع."

(فروع صلی المحبوس  بالتیمم،ج:1،ص:253،ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200574
تاریخ29-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں