بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض لے کر قربانی کرنا

سوال

کیا قرض کی رقم سے قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جس شخص پر قربانی واجب نہ ہو، اس کے لیے قرضہ لے کر قربانی کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر کسی نے ایسا کرلیا تو قربانی ادا ہوجائے گی، البتہ جس شخص پر قربانی واجب ہو، مگر اس کے پاس نقدی نہ ہو تو اسے سونا چاندی یا قابل فروخت چیز فروخت کرکے یا قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَلَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ بِحَيْثُ لَوْ صُرِفَ فِيهِ نَقَصَ نِصَابُهُ لَا تَجِبُ". (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَفْسِيرِهَا وَرُكْنِهَا وَصِفَتِهَا وَشَرَائِطِهَا وَحُكْمِهَا وَفِي بَيَانِ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ وَمَنْ لَا تَجِبُ، ۵ / ۲۹۲، ط: دار الفكر)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200564
تاریخ29-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں