بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس جانور کا پیدائشی ایک خصیہ ہو اس کی قربانی

سوال

اگر قربانی کے  جانور کا پیدائشی ایک خصیہ ہو تو اس کی قربانی ہو جاتی ہے؟

جواب

جس جانور کے پیدائشی دونوں خصیے نہ ہوں یا ایک خصیہ نہ ہو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔ (فتاوی مفتی محمود9/590)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَيَجُوزُ الْمَجْبُوبُ الْعَاجِزُ عَنْ الْجِمَاعِ، وَاَلَّتِي بِهَا السُّعَالُ". ( كتاب الأضحية، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي بَيَانِ مَحَلِّ إقَامَةِ الْوَاجِبِ، ۵ / ۲۹۷، ط: دار الفكر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’سوال : ایک فوطہ والے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب : اس کی بھی قربانی درست ہے‘‘۔ (۱۷ / ۳۵۳، دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200518
تاریخ28-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں