بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایصالِ ثواب کے لیے قربانی کی نیت کرکے پھر نہ کرسکنے کا حکم

سوال

کسی کی قربانی کی نیت کر کے پھر قربانی نہ کرنا، جیسے کسی نے اپنی قربانی کرنے کے بعد والدہ کی قربانی کی نیت کی، لیکن پھر نہیں کی تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اپنی واجب قربانی کے علاوہ والدہ کے ایصال ثواب کے لیے قربانی کی نیت کرنا  یہ نفلی قربانی کی نیت ہے،  اور نفلی قربانی کو  اگر نذر مان کر اپنے اوپر لازم نہ کیا ہو، بلکہ  بلکہ صرف نفلی طور پر ہی قربانی کی نیت ہو تو  وہ قربانی کرنا لازم نہیں ہوتا، لہذا اگر کسی وجہ سے وہ نفلی قربانی نہ کرسکے تو کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ استطاعت ہو تو کرلینا بہتر ہے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر مذکورہ شخص کی والدہ حیات ہیں اور ان پر قربانی واجب ہے تو ان کے ذمے قربانی باقی رہے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200513
تاریخ28-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں