بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مسبوق بھی امام کےساتھ سجدہ سہو کرے گا؟

سوال

آیامسبوق بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا یانہیں؟ اگر کرے گا تو کیا امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیرے گا یا نہیں؟

جواب

مسبوق کو امام کے سجدہ سہو تو کرنا چاہیے، لیکن سجدہ سہو کے وقت سلام نہیں پھیرنا چاہیے۔ البتہ مسبوق  اگر بھول سے امام کے ساتھ سجدۂ سہو پر سلام پھیر دے، تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ سجدۂ سہو بھی امام کی نماز ہی میں داخل ہے۔ اور اگر مسبوق نے امام کے ساتھ جان کر سلام پھیردیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 82):

"(قوله: والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود؛ لأنه لايتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامداً فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهواً قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه  منفرداً حينئذ، بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 82):

"(ومقتد بسهو إمامه إن سجد إمامه) لوجوب المتابعة (لا بسهوه) أصلاً".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200506
تاریخ28-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں