بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

3 لاکھ روپے نقد رکھنے والے پر قربانی

سوال

 محترم میں ایک گورنمنٹ پرائمری استاد ہوں میرے پاس نقد رقم 3لاکھ روپے ہے،کرایہ کے گھر میں رہتا ہوں ،ماں باپ کا ملکیتی جائداد ابھی تک ہمارے نام نہیں ،پچھلے کئی سال سے قربانی کی ہے،سوال یہ  ہے کہ مجھ پر قربانی واجب ہے۔

جواب

آج کل (ذوالحجہ 1441ھ) میں قربانی کے نصاب کے مطابق 3 لاکھ روپے نقد رکھنے والے پر قربانی واجب ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 191):
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان". فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200498
تاریخ28-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں