بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی نماز دو رکعت الگ اور ایک رکعت الگ کرکے پڑھنا

سوال

 اگر ایک آدمی وتر پہلے دو رکعت پڑھ لے، بعد میں ایک رکعت پڑھ لے، وتر نماز ایسے پڑھنا صحیح ہے؟

جواب

احناف کے نزدیک وتر کی نماز  تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، اس کے دلائل احادیث مبارکہ کی روشنی میں کتابوں میں موجود ہیں؛ اس لیے حنفی مقلد کے لیے دو سلام کے ساتھ  وتر پڑھنا درست نہیں ہے،  اس سے وتر ادا نہیں ہوں گے۔

نیز مقلد  پر  فروعی مسائل میں اپنے مذہب کے امام کی اتباع کرنا لازمی ہے، احناف کے نزدیک دلائل کی رو سے یہی راجح یہ ہے کہ  وتر کی نماز  تین رکعات، دو قعدے اور ایک سلام کے ساتھ ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"فظهر بهذا أن المذهب الصحيح صحة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلم على رأس الركعتين وعدمها إن سلم. والله الموفق للصواب".  (البحر الرائق، 2/40، باب الوتر والنوافل، ط: سعید) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200481
تاریخ28-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں