بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میسج کے ذریعے بیوی کوتین طلاقیں دینے کاحکم

سوال

میسج کے ذریعے میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو کیا طلاق واقع ہو گئی?

جواب

اگر واقعۃً  آپ نے  اپنی بیوی کو  میسج پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر دیا تو اس سے آپ کی بیوی  پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، نکاح ختم ہوچکا ہے، اس کے بعد رجوع کی یا نکاح کی تجدید کرکے ساتھ  میں رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة،وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو،(مطلب في الطلاق بالکتابة، ج:3، ص:246، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و إن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً و يدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية". (كتاب الطلاق، الباب السادس، ج:1، ص:473، مکتبه رشیدیه) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200449
تاریخ27-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں