نفلی روزے توڑنے کی صورت میں حکم
سوال
اگر کسی نے پیاس کی شدت سے نفل روزہ توڑ دیا طلوع آفتاب سے پہلے تو کیا حکم ہو گا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وَلَا كَفَّارَةَ بِإِفْسَادِ صَوْمِ غَيْرِ رَمَضَانَ، كَذَا فِي الْكَنْزِ". (كتاب الصوم، الْمُتَفَرِّقَاتُ، ۱ / ۲۱۵، ط: دار الفكر) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144112200393
تاریخ27-07-2020

