بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزے توڑنے کی صورت میں حکم

سوال

اگر کسی نے پیاس کی شدت سے نفل روزہ توڑ دیا طلوع  آفتاب سے پہلے تو کیا حکم ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَلَا كَفَّارَةَ بِإِفْسَادِ صَوْمِ غَيْرِ رَمَضَانَ، كَذَا فِي الْكَنْزِ". (كتاب الصوم، الْمُتَفَرِّقَاتُ، ۱ / ۲۱۵، ط: دار الفكر)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200393
تاریخ27-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں