بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع میں عدت کا نفقہ

سوال

 خلع لینے کے بعد مرد کو عدت کے زمانے میں نفقہ دینا ہو گا؟

جواب

اگر خلع کے معاملہ کے دوران صراحۃً ذکر کر دیا جائے یعنی شوہر صراحت کر دے کہ میں عدت کا نفقہ نہیں دوں گا تو عدت کا نفقہ ساقط ہو جائے گا، لیکن اگر ایسی کوئی صراحت نہ کی ہو تو شوہر سے عدت کا نفقہ ساقط نہ ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 453)

 (إلا نفقة العدة) وسكناها فلايسقطان (إلا إذا نص عليها) فتسقط النفقة لا السكنى.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200386
تاریخ27-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں