بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ اور محمد کے نام کو مٹانا

سوال

پیج پر  لکھے ہوئے "اللہ" یا "محمد" کے نام کو اگر تیز کلر پین سے مٹا دیں اور پھر پھینک دیں  تو  بے حرمتی ہوگی یا نہیں؟ یا پھر جلا دینا چاہیے!

جواب

مقدس اَوراق کے متعلق بہترصورت اوراحتیاط کاتقاضا یہی ہے کہ انہیں کسی کپڑے میں لپیٹ کرمحفوظ مقام پر دفن کردیاجائے، اگر دفنانامشکل ہو تو غیرآباد کنویں یا سمندر میں ڈال دیاجائے، یا پانی میں ملا کر کسی ایسی پاک جگہ پر ڈال دیں جہاں لوگوں کا گزر نہ ہوتا ہو یعنی پاؤں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اور بصورتِ  مجبوری انہیں جلاکران کی راکھ سمندرمیں بہادی جائے۔ نیز   فقہاءِ کرام نے  ضرورت کی صورت میں  کاغذ پر سے قرآنی آیات اور احادیث  کو مٹانے کی اجازت دی ہے، بامرِ مجبوری  اس کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن اس صورت میں بھی مٹاکر پھینکنے کے بجائے جلانے کی گنجائش ہوگی،  متبادل صورت کی موجودگی میں جلانے سے اجتناب کرنا چاہیے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي.

(6 / 422، کتاب الحظر والاباحۃ، ط: سعید)

      فتاوی عالمگیری میں ہے:

ولو محا لوحاً كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز.

(5 / 322، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن،ط: رشیدیه) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200376
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں