بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کو قربانی کے حصہ میں شریک کرنا

سوال

سودی کاروبار والے اور بینک ملازم کو قربانی میں شریک کر سکتے ہیں؟

جواب

قربانی میں اگرکوئی حرام آمدن والا حصہ دار شامل ہو، مثلاً: بینک کا کوئی ملازم یا انشورنس کا کاروبار کرنے والا، سودی کاروبار کرنے والا شریک ہو جس کا ذریعہ آمدنی صرف حرام ہو، یا اس کی غالب آمدنی حرام ہو تو شرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی، اس لیے حرام آمدن والے کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200369
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں