بینک ملازم کو قربانی کے حصہ میں شریک کرنا
سوال
سودی کاروبار والے اور بینک ملازم کو قربانی میں شریک کر سکتے ہیں؟
جواب
قربانی میں اگرکوئی حرام آمدن والا حصہ دار شامل ہو، مثلاً: بینک کا کوئی ملازم یا انشورنس کا کاروبار کرنے والا، سودی کاروبار کرنے والا شریک ہو جس کا ذریعہ آمدنی صرف حرام ہو، یا اس کی غالب آمدنی حرام ہو تو شرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی، اس لیے حرام آمدن والے کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144112200369
تاریخ26-07-2020

