بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آڈٹ فرم میں جاب کرنا

سوال

ایک فرم میں آڈٹ کی جاب ہے، کام یہ ہے کہ کنٹریکٹ ملتے ہیں، کبھی دوائی کی کمپنی میں آڈٹ کرنا ہوتا ہے،کبھی بینک میں، نوکری اور  کمائی کا کیا حکم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ آڈٹ فرم کا اکثر کام بینک یا دیگر سودی اداروں کا آڈٹ نہیں ہے، نیز اس کے اکثر ذرائع آمدن حلال ہیں تو اس آڈٹ فرم میں نوکری کرنا اور تنخواہ لینا جائز ہوگا۔ البتہ بینک کا آڈٹ کرنا ناجائز کام میں تعاون ہے؛ اس لیے بینک کاآڈٹ  کرنا ناجائز ہے، اس کے علاوہ جن اداروں میں سودی یا ناجائز معاملات نہ ہو، ان کا آڈٹ کرنا جائز ہے۔

امدادالفتاویٰ میں ہے:

’’جن کی آمدنی بالکل حرام خالص ہے جیسے مے فروش یا سود خوروغیرہ ان کی نوکری کرنا ناجائز ہے اور جو تنخواہ اس میں سے ملتی ہو وہ حلال نہیں ہے ‘‘۔ (امدادالفتاویٰ ۔ج:3،ص:377) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200366
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں