بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خطیب کا تلوار تھام کرخطبہ دینےکا حکم

سوال

تلوار تھام کر خطبہ جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےحضوراکرم ﷺ سےتلوار کےساتھ خطبہ دینا ثابت نہیں ہے، تاہم ابو داؤد شریف کی روایت  میں لاٹھی اور نیزہ کے ساتھ  خطبہ دینا ثابت ہے۔

بصورتِ مسئولہ جو علاقے مسلمانوں نے بذریعۂ جنگ فتح کیے ہیں وہاں خطیب، اسلام کی عزت اور شان کو ظاہر کرنے کےلیے تلوار کےساتھ خطبہ دےسکتا ہے،اور جو علاقہ صلحاً فتح کیےگئےہیں وہاں خطیب بغیر تلوار کے خطبہ دے۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"و" إذا قام يكون "السيف بيساره متكئا عليه في كل بلدة فتحت عنوة" ليريهم أنها فتحت بالسيف فإذا رجعتم عن الإسلام فذلك باق بأيدي المسلمين يقاتلونكم به حتى ترجعوا إلى الإسلام "و" يخطب "بدونه" أي السيف "في" كل "بلدة فتحت صلحا" ومدينة الرسول فتحت بالقرآن فيخطب فيها بلا سيف ومكة فتحت بالسيف. (باب الجمعة، ص:515، مکتبه رشیدیه) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200322
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں