بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین امیر اور تین غریب نے ایک جانور خریدا پھر وہ عیب دار ہوگیا

سوال

چھ افراد نے قربانی کا جانور خریدا ،جن میں سے تین مالدار اور تین غریب تھے ،اب جانور عیب دار ہوگیا ،تو اس مسئلہ کا حل کیا ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں صاحبِ نصاب افرادکے لیے عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں ہے، ان کے ذمہ کسی دوسرے جانور کی قربانی کرنا لازم ہے۔ غریب شرکاء اسی جانور کو قربان کریں گے، ان کے ذمہ دوسرے جانور کی قربانی نہیں ہے کیونکہ وہ صاحبِ نصاب نہیں ہیں۔تبیین الحقائق میں ہے :

ولو اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع من التضحية كان عليه أن يقيم غيرها مقامها إن كان غنيا، وإن كان فقيرا يجزئه ذلك؛ لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم يتعين بالشراء.والفقير ليس عليه واجب شرعا فتعينت بشرائه بنية الأضحية، ولا يجب عليه ضمان نقصانها؛ لأنها غير مضمونة عليه فأشبهت نصاب الزكاة، وعن أبي سعيد أنه قال «اشتريت كبشا أضحي به فعدا الذئب فأخذ الألية قال فسألت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال ضح به» رواه أحمد، ويحمل على أنه كان فقيرا(۶ / ۶، المطبعة الكبرى الأميرية)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200321
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں