بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی جگہ کسی اور کا نام دے کر قربانی کرانا

سوال

اگر گھر کے کسی فرد پر قربانی واجب ہے تووہ اپنا نام نہ دے کر  گھر کے دوسرے فرد کا نام ڈال سکتا ہے؟

جواب

جس شخص پر قربانی واجب ہو اس پر اپنی طرف سے قربانی کرنا لازم ہے، اگر وہ اپنی قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے کسی اور فرد کی طرف سے قربانی کرتا ہے تو یہ درست ہے۔ لیکن اگر اپنی قربانی چھوڑ کر دوسرے کی طرف سے قربانی کی نیت کی تو اپنے ذمے واجب قربانی ترک کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

نیز  جس کی طرف سے قربانی کی نیت کی اگر اسے قربانی سے پہلے بتاکر اس سے اجازت نہیں لی تو اس کی قربانی بھی ادا نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 335):
" قال ابن الفضل: ينبغي أن يوكل كل واحد أصحابه بالذبح؛ حتى لو ذبح شاة نفسه جاز، ولو ذبح عن غيره بأمره جاز أيضا اهـ شارح". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200311
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں