بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فقیر کا اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے

سوال

 اگر غیر صاحب نصاب قربانی کرے تو اسے اس قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے؟

جواب

جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو اور اس نے قربانی کی ہو تو ایسے شخص کا اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز، وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام إلا أن إطعامها والتصدق بها أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم به، كذا في البدائع.(۵ / ۳۰۰، رشیدیہ)

امداد الفتاوی میں ہے :

اس روایت سے معلوم ہوا کہ جب زبان سے نذر کرلے اس کا کھانا تو خود جائز نہیں اور جو نذر نہ کی ہو، گو مثل نذر کے اس پر واجب ہوگیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے كما يدل عليه قوله : غير موسع الحال(ج۳ / ص۵۶۳) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200309
تاریخ26-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں