بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ عورت آشنا کے ساتھ بھاگ جائے تو اسے قتل کرنے کا حکم

سوال

کیا شادی شدہ عورت اگر نا محرم کے ساتھ بھاگ جائے تو اس کو قتل کرنا جائز ہے؟

جواب

شادی شدہ عورت کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانا بہت ہی بے حیائی، اور نہایت قابلِ مذمت فعل اور حرام ہے، البتہ شادی شدہ عورت کے کسی نامحرم کے ساتھ بھاگنے سے اسے قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، تاہم عدالت اسے تعزیری سزا دے سکتی ہے۔

ایسی عورت کے بارے میں آگاہی ہوجائے تو اسے آشنا سے فوری طور پر جدا کیا جائے، اور اس کے شوہر کو اختیار ہے، چاہے تو اپنے پاس رکھے، چاہے تو اس حرکت کی وجہ سے اسے طلاق دے کر نکاح سے خارج کردے، بہرصورت جب تک شوہر اسے نکاح سے خارج نہ کرے، اور اس کی عدت نہ گزر جائے، اس وقت تک اس کے لیے کسی دوسرے  شخص سے نکاح کرنا حرام رہے گا۔ اور اس سلسلے میں جتنے لوگ عورت کے ساتھ شامل ہوں، انہیں سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200300
تاریخ25-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں