بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جلدی کمیٹی دینے پر رقم میں کٹوتی کرنا

سوال

میری پانچھ لاکھ کی کمیٹی ہے، اب کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی کمیٹی مجھے دے دو، اسے ضرورت ہے۔ لیکن جس کی کمیٹی ہے وہ یہ کہہ رہا ہے میں تمہیں چار لاکھ دوں گا، ایک لاکھ اپنے پاس رکھوں گا، لیکن تمہیں پورے پانچ لاکھ کمیٹی میں بھرنے ہوں گے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

سوال میں مذکور صورت سود ہونے کی بنا پر جائز نہیں ہے، کمیٹی کے ذمہ دار پر لازم ہے کہ  یا تو اس کو پورے پانچ لاکھ روپے ادا کرے یا آپ باری کا انتظار کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200274
تاریخ25-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں