بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قربانی کرنے والا ضرورت پڑنے پر جسم کے زائد بال ہٹا سکتا ہے؟

سوال

سستی کی وجہ سے میں اپنے جسم کی صفائی نہ کر سکا اور میں نے قربانی کی بھی نیت کی ہوئی ہے، کیا میں اپنے جسم کی صفائی کر سکتا ہوں؟ 

جواب

جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو ، اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی تک جسم کے زائد بال  نہ ہٹانا اور ناخن نہ تراشنا مستحب ہے، واجب نہیں، اگر آپ کو اس کی ضرورت محسوس ہو تو جسم کی صفائی کرسکتے ہیں۔ 

"عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَايَقْلِمْ مِنْ أَظْفَارِهِ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي عَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ".

(سنن النسائي ، كتاب الضحايا، رقم الحديث: ٤٣٦٢) 

العرف الشذی  میں ہے:

"و مسألة حديث الباب مستحبة،  و الغرض التشاكل بالحجاج."

(ج:1،ص:278،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200223
تاریخ25-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں