بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر صاحبِ نصاب کا ذی الحجہ کے عشرہ میں ناخن اور بال نہ کاٹنا

سوال

مفتی صاحب اگر کسی پہ قربانی واجب نہ ہو اور وہ شخص ناخن اور بال نہ کاٹے تو اسے بھی کوئی ثواب ملے گا؟

جواب

جس آدمی پر قربانی واجب ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ،اگر   آپ پر  قربانی واجب نہیں ہے تو آپ کے لیے یہ عمل مستحب نہیں ہے، آپ اپنے بال ناخن وغیر کاٹ سکتے ہیں۔اس مسئلہ کی مکمل تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ کریں :

قربانی کرنے والے کا بال اور ناخن نہ کاٹنا اور اس حکم کی حکمت

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200215
تاریخ24-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں