بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا فریج  حوائج اصلیہ میں داخل ہے؟

سوال

کیا فریج  حوائج اصلیہ میں داخل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہوں، وہ نصاب کے باب میں  ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل ہیں اور فریج بھی چوں کہ  ضرورت کا سامان ہے؛ اس لیے گھر میں موجود فریج (یعنی جو تجارت کی غرض سے نہ رکھا ہو) حوائجِ اصلیہ میں شمار ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262):

"فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه ...... (فلا زكاة على ..... ثياب البدن....  وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200208
تاریخ24-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں