بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیامت کے قریب چاند میں اختلاف

سوال

کیا یہ حدیث مستند ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ ہوگی کہ لوگ چاند کو دیکھ  کر کہیں گے: یہ تو انتیس کا تھا یا تیس کا تھا، یعنی کہ چاند کی رویت کو مشکوک بنائیں گے، الطبرانی یا کسی دوسری احادیث کی کتب سے حوالہ موجود ہو ؟  مہربانی فرما کر راہ نمائی فرمائیں!

جواب

اس مضمون کی ایک روایت  ’’المعجم الاوسط‘‘ للطبرانی میں موجود ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں:

"حدثنا محمد بن عبد الرحمن ثنا أبي ثنا مبشر بن إسماعيل عن شعيب بن أبي حمزة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: من أشراط الساعة انتفاخ الأهلة حتى يرى الهلال لليلته، فيقال: هو لليلتين". (المعجم الأوسط :۸/۴۴۱ ، رقم الحدیث : ۶۸۶۰،ط: مکتبة المعارف)

نیز اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’التاریخ الکبیر‘‘  میں اور  ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ’’الاستیعاب‘‘  میں ذکر کیا ہے ، یہ حدیث  ابو الزناد سے صرف شعیب نے نقل کی ہے، اور اس کے مخالف کوئی روایت بھی نہیں ہے، اسے بیان کیا جاسکتا ہے ۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200149
تاریخ23-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں