بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت کے پستان سے نکلنے والی پانی نما رطوبت کا حکم دودھ جیسا ہے؟

سوال

حمل کے دوران بیوی کے پستان سے جو پانی نما رطوبت نکلتی ہے، کیا شوہر اسے چوس سکتا ہے؟یا اس کے احکام بھی بچے کی پیدائش کے بعد نکلنے والے دودھ جیسے ہیں؟

جواب

میاں اپنی بیوی کے پستان چوس سکتا ہے،اگرچہ بیوی حمل سے ہو, البتہ  بیوی کا دودھ پینا حرام ہے, اس لیے اگر دودھ آنے کا گمان ہو تو احتیاطاً ایسے نہیں کرنا چاہیے. نیز اگر دودھ موجود نہ ہو بلکہ پستانوں سے پانی نما رطوبت خارج ہو اور وہ منہ میں آجائے تو اسے بھی تھوک دینا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 225):

"مص رجل ثدي زوجته لم تحرم.

 (قوله: مص رجل) قيد به احترازاً عما إذا كان الزوج صغيراً في مدة الرضاع فإنها تحرم عليه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 211):

"(ولم يبح الإرضاع بعد مدته)؛ لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح، شرح الوهبانية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200067
تاریخ22-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں