بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل کی طرف سے قربانی

سوال

ماں کے پیٹ کے حمل کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

حمل کی طرف سے قربانی کرنا واجب تو نہیں ہے البتہ اس کی طرف سے نفلی قربانی کرنا درست ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (9 / 126):

"وقال صاحب (الهداية) : الأصل أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صدقة أو صوما أو غيرها، عند أهل السنة والجماعة، لما روي عنه صلى الله عليه وسلم أنه ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه، والآخر عن أمته."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200011
تاریخ22-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں