بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنگڑا، لاغر، خصی اور سینگ ٹوٹا جانور قربان کرنا

سوال

کیا قربانی کا جانور لنگڑا، لاغر، خصی، سینگ ٹوٹا ہوا ہے تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر قربانی کا جانور ایسا لنگڑا اور لاغر ہو کہ قربان گاہ تک چل کر نہ جا سکے تو اس کی قربانی جائز نہیں۔

تاہم جانور کا خصی ہونا یا سینگ کا ٹوٹا ہوا ہونا عیب نہیں ہے، البتہ اگر سینگ جڑ سے اس طور پر نکل جائے کہ سر کے اندر تک اس کا زخم ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 323):

"(والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي المذبح."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 323):

"(قوله: ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز قهستاني، وفي البدائع إن بلغ الكسر المشاش لا يجزئ والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين اهـ."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200009
تاریخ22-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں